انتظار

April 9, 2013 - Less than a minute read
source: liveinthelightofgrace.blogspot.com

source: liveinthelightofgrace.blogspot.com

بڑی بے صبر سی جو راحتیں

یہ جو تشنگی سی اس بار ہے

اِسے میں کہوں تیرا انتظار

یا تیری خواہشِ بسیار ہے

تجھے اپنی فرصتیں نہیں

مجھے اپنی عادتیں نہیں

سنو اب بھی تم اسے چاہ لو

تیری دید جسکی بہار ہے

سبھی بےکل سی وہی گفتگو

وہی بےوجہ سی لڑائیاں

تیرا ناز کرنا میری بات پر

وہ رسم اب بھی برقرار ہے

ابھی دل کے کئی باب ہیں

جنہیں کھولنا ہے قدم قدم

ذرا ہمتوں کو جگا کے رکھ

یہ تو کھیل ہے،کبھی آر ہے کبھی پار ہے

تمہیں اب تلک یہ ہوا نہیں

اک عمر جس میں گزار کے

ہمیں اب بھی تجھ سے ہے اُنس سا

یہ وفائیں تجھ پہ ادھار ہیں

چلے جا رہے ہو، ذرا سن تو لو

یہ نگاہ ہو گی تیری راہ میں

تجھے یاد آؤں، تم رو پڑو

سبھی چاہتوں کی پکار ہے

Written By: Musarrat Amin 

Tags: , , , , , , ,