اک نظم لکھوں | بزمِ اْردو

June 12, 2013 - Less than a minute read

magistramater.xanga.com

magistramater.xanga.com

آج بیٹھے بیٹھے سوچا تھا
اک نظم لکھوں ،اک غزل کہوں
کسی دل کی میں آواز بنوں
کوئی ساز میں چھیڑوں لفظوں کا
جس ساز کی ہر دھن مدھر ہو
ہر لفظ سے جس کے آس ملے
بس پیار کا ہی پیغام ملے
جہاں غم کا کوئی کام نہ ہو
اور خوشی ہی ہر گام ملے
جہاں آنسوؤں کا نام نہ ہو
محبت جہاں سرِعام ملے
سو قلم کو پکڑا ہاتھوں میں
اور سوچنا چاہا پھولوں کو
رنگوں کو، خوشبوؤں کو
اک منظر آنکھ میں ٹہر گیا
بیٹے کی لاش اٹھائے ہوئے
روتا ہوا ایک بوڑھا باپ
کچھ آگے بڑھایا سوچ کو جب
ہاتھ میں اینٹیں پکڑے ہوئے
اور چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے
گالیوں کی پھنکارتلے
گار،ا مٹی ڈھوتے ہوئے
اک ننھا سا معصوم دکھا
یوں سرد پڑے جذبات کے پھر
جو پہلا لفظ لکھا میں نے
وہ ’’موت ‘‘لکھا
پھر ظلم لکھا اور غم بھی لکھا
پھر آگ لکھا اور خون لکھا

Written By: Umme Hani

Tags: , , , , , , , , ,